Nofal rabbani ka moulana Salman Nadwi par Ek tabsara.
سید سلمان ندوی کی صحابہ کرام پر تنقید پر نوفل ربانی بھائی کا تبصرہ
-----------------------------------------------------------------------
مغرب کا تہذیبی غلبہ اور تسلط ایسا ہمہ گیر ہے کہ تاریخ اسلام پر ایسا دور پہلے کبھی نہیں گذرا اس تسلط کے دور میں مسلمانوں نے دو راستے اختیار کئے
1)دارالعلوم دیوبند
2)علی گڑھ یونیورسٹی
دیوبند تسلط مغرب سے کلی طور پر بچنے اور مخاصمانہ رویہ تھا
علی گڑھ کلی طور پر اس تہذیبی شکست کو تسلیم کرکے انکی تہذیب میں رنگنے کا نام تھا .
کچھ اہل علم نے درمیان کی راہ نکالی جیسے جامعہ ملیہ اور ندوۃ العلماء لیکن یہ تمام کوششیں نتائج کے اعتبار سے چل نہ سکیں ندوہ دیوبند سے متاثر ہوا اور علی میاں رحمہ الله کے دور میں تو جیسے ندوہ دیوبند میں مرج ہوگیا ہو جامعہ ملیہ کو علی گڑھ کھاگیا ۔۔۔۔
اب ندوہ کی زندگی دیوبند کے ساتھ فکری وابستگی میں ہے ورنہ خالی ندوہ عملا ریجکٹ ہوگیا ہے ۔
ندوہ جب دیوبند سے الگ ہوتا ہے تو اس کینوس پر جو تصویر ابھرتی ہے وہ حضرت سلمان ندوی جیسی ہزار رنگ دام فرنگ ہوتی ہے اور ندوی جب دیوبند سے جڑتا ہے تو صبغۃ اللہ میں رنگا وجود حضرت علی میاں رحمہ الله تشکیل پاتا ہے
سلمان ندوی صاحب کی شخصیت میں ہر رنگ موجود ہے رفض کا بدعت کا مودودیت کا اخوانیت کا آل سعودیت کا ہندوتوا کا نہ جانے کون کون سے !!!!
موصوف کو اپنے سوا ہر چیز قابل اصلاح لگتی ہے صحابہ کرام تو رہے ایک طرف حضرت کو تو اللہ کا قرآن بھی قابل اصلاح لگتا ہے کہاجاتا ہے کہ حضرت نے قرآن پاک کی موجودہ ترتیب کو غلط سمجھتے ہوئے اپنی مزعومہ ترتیب کے مطابق قرآن بھی چھاپا یا چھاپنے کی کوشش کی ۔
آہ !!!
سید عطاءاللہ شاہ بخاری رحمہ اللہ امیر عزہمت کہاں یاد آگئے
فرماتے تھے کہ صحابہ تاریخی نہیں قرآنی شخصیات ہیں اور قرآن پر تنقید نہیں ہوسکتی اسپر صرف ایمان لایا جاتا ہے کاش سلمان ندوی صاحب مغربی فلاسفہ سے ہی ایمان لانا سیکھ لیتے کیونکہ صحابہ تو انکے نزدیک معیار ایمان نہیں اسی لیئے تو تنقید شتر بے مہار کرتے ہیں جبکہ اللہ کے ہاں معیار تو صحابہ کا ایمان ہے جان رالس اور اسکاشارح ڈربن کہتے ہیں "جمہوریت کے لئے کسی دلیل کی ضرورت نہیں جو دلیل مانگے اسے گولی ماردو "
خیر صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین 21ویں صدی کے مفلس علم تہی دامن اخلاق شہرت کے بھوکے پیٹرو منی کے غازی ڈالر کے شہداء کی بدتمیز ، پست گھٹیا تنقید سے مبراء اور بہت بلند مقام ہیں یہ لوگ نہ ناصبی نہ رافضی نہ اہل سنت یہ تو عجیب مخلوق ہیں پاکستان میں مفتی زاہد صاحب مشہور متجددعالم ہیں انکو اور ہندوستان میں سلمان ندوی صاحب کو صحابہ کرام کی اصلاح کا شوق چرایا ہے اس معاملے بھی جب بھی یہ دونوں منہ کھولتے ہیں تو گند ہی کرتے ہیں
امام اہل سنت مولانا سرفراز خان صفدر رحمہ اللہ نے ایک دفعہ حاضری کے موقع پر نصیحت فرمائی کہ !!
تین چیزوں میں کامیابی ہے !
" غیرت، محنت، اکابرین کا دامن "
تحقیق وتدقیق کے سمندر میں اکابرین کا فہم اور اس فہم کا حصار لائف جیکٹ ہے ورنہ تو اچکنے کو ہزار دام موجود ہیں ۔
اللہ کریم رحم فرمائے ۔
ایک لطیفہ یاد آگیا !!
ایک عورت کی شادی ہوئی سسرال میں آکر بولتی نہ تھی ساس نے اصرار کیا کہ بولا کر لوگ سمجھیں گے کہ ساس ظالم ہے
اس دلہن نے چھوٹتے ہیں جو بولا تو کیا بولا
کہنے لگی ساسو ماں اگر تمھارا بیٹا جو میرا شوہر ہے مر گیا تو میں کیا کروں گی
سنتے ہیں ساس نے کہا
تو چپ ہی ٹھیک تھی
پنجابی میں کہتے ہیں پیڑے رون توں چپ چنگی
اہل علم نے سلمان ندوی صاحب سے حضرت امیر معاویہ رضی اللہ اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ اور ثقیفہ بنوساعدہ کی مبایعین پر جارحانہ ہذیانہ تنقید رجوع اور وضاحت کا مطالبہ کیا تو سلمان صاحب نے تو دلہن کی طرح جو وضاحت دی وہ تو سبحان اللہ عذر گناہ بدتر از گناہ تھا
موصوف سے وضاحت نہ مانگی جائے مزید گند پھیلائیں گے بس انکو اپنی صفوں سے باہر کردیں اکابر کے اکابر کے ساتھ دیکھ کر عامۃ المسلمین دھوکہ نہ کھائیں
نوفل ربانی
سید سلمان ندوی کی صحابہ کرام پر تنقید پر نوفل ربانی بھائی کا تبصرہ
-----------------------------------------------------------------------
مغرب کا تہذیبی غلبہ اور تسلط ایسا ہمہ گیر ہے کہ تاریخ اسلام پر ایسا دور پہلے کبھی نہیں گذرا اس تسلط کے دور میں مسلمانوں نے دو راستے اختیار کئے
1)دارالعلوم دیوبند
2)علی گڑھ یونیورسٹی
دیوبند تسلط مغرب سے کلی طور پر بچنے اور مخاصمانہ رویہ تھا
علی گڑھ کلی طور پر اس تہذیبی شکست کو تسلیم کرکے انکی تہذیب میں رنگنے کا نام تھا .
کچھ اہل علم نے درمیان کی راہ نکالی جیسے جامعہ ملیہ اور ندوۃ العلماء لیکن یہ تمام کوششیں نتائج کے اعتبار سے چل نہ سکیں ندوہ دیوبند سے متاثر ہوا اور علی میاں رحمہ الله کے دور میں تو جیسے ندوہ دیوبند میں مرج ہوگیا ہو جامعہ ملیہ کو علی گڑھ کھاگیا ۔۔۔۔
اب ندوہ کی زندگی دیوبند کے ساتھ فکری وابستگی میں ہے ورنہ خالی ندوہ عملا ریجکٹ ہوگیا ہے ۔
ندوہ جب دیوبند سے الگ ہوتا ہے تو اس کینوس پر جو تصویر ابھرتی ہے وہ حضرت سلمان ندوی جیسی ہزار رنگ دام فرنگ ہوتی ہے اور ندوی جب دیوبند سے جڑتا ہے تو صبغۃ اللہ میں رنگا وجود حضرت علی میاں رحمہ الله تشکیل پاتا ہے
سلمان ندوی صاحب کی شخصیت میں ہر رنگ موجود ہے رفض کا بدعت کا مودودیت کا اخوانیت کا آل سعودیت کا ہندوتوا کا نہ جانے کون کون سے !!!!
موصوف کو اپنے سوا ہر چیز قابل اصلاح لگتی ہے صحابہ کرام تو رہے ایک طرف حضرت کو تو اللہ کا قرآن بھی قابل اصلاح لگتا ہے کہاجاتا ہے کہ حضرت نے قرآن پاک کی موجودہ ترتیب کو غلط سمجھتے ہوئے اپنی مزعومہ ترتیب کے مطابق قرآن بھی چھاپا یا چھاپنے کی کوشش کی ۔
آہ !!!
سید عطاءاللہ شاہ بخاری رحمہ اللہ امیر عزہمت کہاں یاد آگئے
فرماتے تھے کہ صحابہ تاریخی نہیں قرآنی شخصیات ہیں اور قرآن پر تنقید نہیں ہوسکتی اسپر صرف ایمان لایا جاتا ہے کاش سلمان ندوی صاحب مغربی فلاسفہ سے ہی ایمان لانا سیکھ لیتے کیونکہ صحابہ تو انکے نزدیک معیار ایمان نہیں اسی لیئے تو تنقید شتر بے مہار کرتے ہیں جبکہ اللہ کے ہاں معیار تو صحابہ کا ایمان ہے جان رالس اور اسکاشارح ڈربن کہتے ہیں "جمہوریت کے لئے کسی دلیل کی ضرورت نہیں جو دلیل مانگے اسے گولی ماردو "
خیر صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین 21ویں صدی کے مفلس علم تہی دامن اخلاق شہرت کے بھوکے پیٹرو منی کے غازی ڈالر کے شہداء کی بدتمیز ، پست گھٹیا تنقید سے مبراء اور بہت بلند مقام ہیں یہ لوگ نہ ناصبی نہ رافضی نہ اہل سنت یہ تو عجیب مخلوق ہیں پاکستان میں مفتی زاہد صاحب مشہور متجددعالم ہیں انکو اور ہندوستان میں سلمان ندوی صاحب کو صحابہ کرام کی اصلاح کا شوق چرایا ہے اس معاملے بھی جب بھی یہ دونوں منہ کھولتے ہیں تو گند ہی کرتے ہیں
امام اہل سنت مولانا سرفراز خان صفدر رحمہ اللہ نے ایک دفعہ حاضری کے موقع پر نصیحت فرمائی کہ !!
تین چیزوں میں کامیابی ہے !
" غیرت، محنت، اکابرین کا دامن "
تحقیق وتدقیق کے سمندر میں اکابرین کا فہم اور اس فہم کا حصار لائف جیکٹ ہے ورنہ تو اچکنے کو ہزار دام موجود ہیں ۔
اللہ کریم رحم فرمائے ۔
ایک لطیفہ یاد آگیا !!
ایک عورت کی شادی ہوئی سسرال میں آکر بولتی نہ تھی ساس نے اصرار کیا کہ بولا کر لوگ سمجھیں گے کہ ساس ظالم ہے
اس دلہن نے چھوٹتے ہیں جو بولا تو کیا بولا
کہنے لگی ساسو ماں اگر تمھارا بیٹا جو میرا شوہر ہے مر گیا تو میں کیا کروں گی
سنتے ہیں ساس نے کہا
تو چپ ہی ٹھیک تھی
پنجابی میں کہتے ہیں پیڑے رون توں چپ چنگی
اہل علم نے سلمان ندوی صاحب سے حضرت امیر معاویہ رضی اللہ اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ اور ثقیفہ بنوساعدہ کی مبایعین پر جارحانہ ہذیانہ تنقید رجوع اور وضاحت کا مطالبہ کیا تو سلمان صاحب نے تو دلہن کی طرح جو وضاحت دی وہ تو سبحان اللہ عذر گناہ بدتر از گناہ تھا
موصوف سے وضاحت نہ مانگی جائے مزید گند پھیلائیں گے بس انکو اپنی صفوں سے باہر کردیں اکابر کے اکابر کے ساتھ دیکھ کر عامۃ المسلمین دھوکہ نہ کھائیں
نوفل ربانی

Comments
Post a Comment