*سپریم کورٹ کے دو فیصلے : سمت قبلہ کیا ہے؟* *✍🏻تحریر:شیخ طریقت حضرت مولانا محمد عمرین محفوظ رحمانی صاحب دامت برکاتہم* (سکریٹری آل انڈیا مسلم پرسنل لابورڈ) سپریم کورٹ کے چیف جسٹس دیپک شرماریٹائرڈ ہوگئے، مگر جاتے جاتے انہوں نے چند ایسے فیصلے سنائے جن کااثر بہت دیر تک باقی رہے گا۔دو مردوں یادو عورتوں کا آپس کاجنسی تعلق ہندوستان میں جرم تھا، اور اس کے متعلق ۱۵۸ سالہ پرانا قانون (دفعہ ۳۷۰) موجودتھا۔ جسے سپریم کورٹ نے یکایک ختم کر دیا اور ہم جنسی کو جرم کے دائرے سے باہر نکال کر یہ اعلان کردیا کہ *ہم ایجادات، ترقیات اور علوم و فنون میں مغرب سے چاہے جتنا پیچھے رہیں ،بے حیائی اور ننگے پن میں اہل مغرب کے پیچھے رہنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ظاہر ہے کہ سپریم کورٹ کایہ فیصلہ صرف ایک فیصلہ نہیں ہے بلکہ مشرقی تہذیب کے خاتمے اورمغربی تہذیب کی طرف بڑھایا گیا مضبوط قدم ہے اور اس کے بڑے غلط اثرات پورے سماج پر پڑیں گے،* پرائیویسی، فرد کی آزادی، اور بنیادی حقوق کہنے کو بڑے خوبصورت الفاظ ہیں مگر ان کی بنیاد پر دیا جانے والا یہ فیصل...
Nofal rabbani ka moulana Salman Nadwi par Ek tabsara. سید سلمان ندوی کی صحابہ کرام پر تنقید پر نوفل ربانی بھائی کا تبصرہ ----------------------------------------------------------------------- مغرب کا تہذیبی غلبہ اور تسلط ایسا ہمہ گیر ہے کہ تاریخ اسلام پر ایسا دور پہلے کبھی نہیں گذرا اس تسلط کے دور میں مسلمانوں نے دو راستے اختیار کئے 1)دارالعلوم دیوبند 2)علی گڑھ یونیورسٹی دیوبند تسلط مغرب سے کلی طور پر بچنے اور مخاصمانہ رویہ تھا علی گڑھ کلی طور پر اس تہذیبی شکست کو تسلیم کرکے انکی تہذیب میں رنگنے کا نام تھا . کچھ اہل علم نے درمیان کی راہ نکالی جیسے جامعہ ملیہ اور ندوۃ العلماء لیکن یہ تمام کوششیں نتائج کے اعتبار سے چل نہ سکیں ندوہ دیوبند سے متاثر ہوا اور علی میاں رحمہ الله کے دور میں تو جیسے ندوہ دیوبند میں مرج ہوگیا ہو جامعہ ملیہ کو علی گڑھ کھاگیا ۔۔۔۔ اب ندوہ کی زندگی دیوبند کے ساتھ فکری وابستگی میں ہے ورنہ خالی ندوہ عملا ریجکٹ ہوگیا ہے ۔ ندوہ جب دیوبند سے الگ ہوتا ہے تو اس کینوس پر جو تصویر ابھرتی ہے وہ حضرت سلمان ندوی جیسی ہزار رنگ دام فرنگ ہوتی ہے...
Comments
Post a Comment