EK KHAT (KHULA CHITTHI) HAZRAT MOULANA SALMAN HASNI NADWI KE NAAM
EK KHAT (KHULA CHITTHI) HAZRAT MOULANA SALMAN HASNI NADWI KE NAAM.
*کھلاخط بنام مولاناسیدسلمان حسینی ندوی صاحب۔*
*از :* *مولاناسیدعتیق الحسن الحسینی*
*نائب امام وخطیب جامع مسجد نیوٹاون (بنوری ٹاؤن) کراچی*
*مولاناسیدسلمان ندوی صاحب کا حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں حالیہ بیان اور اس کے نتائج* :
بلاشبہ مولانا ندوی صاحب وقت کے مضبوط عالم اور ہر فن مولا ہیں اور یہ محض اللہ کا انعام ہے۔۔۔۔لیکن
کامل کوئی بھی نہیں سوائے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اور رب تعالی رضآئے بدیھی کسی کے ساتھ نہیں سوائے اس جماعت کے جسے اس نے اپنے محبوب کے لئے منتخب فرمایا۔
لہذا کتنا ہی بڑا اورمقبول عالم ہو وہ اس وقت تک مقبول رہتا ہے جب تک کہ وہ جمہور کی رائے سے چمٹا رہتا ہے خصوصا ان نازک مسائل میں جو بہت ہی حساس ہیں اور جن سے رو گردانی کفر کو بڑی تقویت دیتی ہے اور اہل اسلام کو ضعیف و ناتواں بنادیتی ہے اور کئیوں کی زبانوں کو بے لگام بنادیتی ہے۔
ان نازک اور حساس مسائل میں مشاجرات صحابہ بھی ہیں ، صحابہ کرام کے فضائل و بشائر کی وجہ سے اگر یہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ وہ تمام مشاجرات محض اجتھادی تسامحات تھے لہذا وہ تمام کے تمام مستحق اجر ٹھہرے تو غلط نہ ہوگا اس لئے کہ متفقہ طور پر یہی بات ائمہ فقہ کے بارے میں حدیث شریف کی ہی رو سے کہی جاتی ہے اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اس بشارت کے اول مستحق ہیں اور بلاشبہ صحابہ کرام میں حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا کاتب وحی ہونے کی وجہ سے مقام رفیع ہے اور ان کے تسامح کو بلاشبہ اجتھادی تسامح کہا جاسکتا ہے اس پر جرح کرنے کا حق کسی بھی عالم کو نہیں اس لئے کہ وہ اس فقیہ سے جو صحابی نہیں اس سے انچا مقام رکھتے ہیں اور وہ قرآن کریم کی رو سے اللہ کی رضا کا پروانہ لے چکے ہیں اور ان کی صحابیت کا تو کوئی بھی منکر نہیں سوائے مجوسیوں اور بدتمیزوں کے۔۔۔۔۔لہذا حضرت امیر معاویہ کے دور کو بڑی جرأت کے ساتھ لعنتی اور منافقنہ اور کافرانہ کہنا خود اپنی آخرت کے بارے میں کئی شکوک و شبھات چھوڑ دیتا ہے اور سچی اور علانیہ توبہ کا بھرپور تقاضہ کرتا ہے۔
مولانا ندوی صاحب اور راقم آپس میں خالہ زاد بھائی ہیں اور راقم ان کے علم کا عشرعشیر بھی نہیں لیکن راقم بس وہ بات جانتا ہے جو قرآنی وربانی ہے اور جسے خود مولانا نے غیر مقلدین کا آپریشن کرتے ہوئے پڑھا تھا۔۔۔۔۔۔۔
ومن یشاقق الرسول من بعد ماتبین له الهدى *ويتبع غيرسبيل المؤمنين* نوله ما تولى........ الآية
لہذا مولانا غور فرمائیں وہ جمہور اور پھر جب کہ ان کے اور ہمارے اکابر موجود ہیں ان کی موجودگی میں یہ کون سا راستہ اختیار فرمارہے ہیں ؟
کیا حضرت علی میاں ندوی رحمہ اللہ کی اور حضرت شاہ علم اللہ اور پھر خود ان کے والدماجد حضرت مولاناطاہر سہارنپوری خلیفہ اجل حضرت شیخ الحدیث رحمہ اللہ کی ارواح اس تقریر کے بعد خوش ہوں گی یا تڑپ رہی ہوں گی اور بے چین ہوں گی ؟؟؟
اور پھر حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کی خلافت کے بارے میں بھی وہ رائے پیش کی جو اتباع غیرسبیل المؤمنين ہے۔۔۔۔۔اگرایسا ہی ہے جیسے آپ نے فرمایا تو عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ کی ترمذی اور مسند احمد وغیرہ کی طویل روایت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کن شخصیات کو *علیکم بسنتی وسنة الخلفاء الراشدين المهديين* کہہ کر *خلفاء* سے یاد فرمایا ؟؟؟
اور ان کی سنت کو اپنی سنت قرار دیا آخر وہ کون ہیں ؟؟؟ ظاہر ہے جن پر اور جس ترتیب پر اجماع ہے وہی *خلفائے راشدین* ہیں۔۔۔۔۔لہذا اسے ایک افسانہ قرار دیدینا کیا رافضیت کو تقویت نہیں دے رہا ؟؟؟
ایک طرف آپ صحابہ کرام کے مقام بلند اور ادب کے موتیوں کی لڑی پرو رہے ہیں دوسری طرف دین کی بنیادوں کو ہلارہے ہیں ، ظاہر ہے اسے ادنی سے ادنی مجھ جیسا انسان بھی جمھور کی متفقہ آراء سے انحراف ہی قرار دے گا جو کہ بالکل بھی مناسب نہیں اور خصوصا اس دور میں کہ جو *فتکون فتن کقطع اللیل المظلم* کا واضح نمونہ ہو اور لوگ استناد کی وجہ سے فتنہ میں مبتلاء ہوجائیں اور آپ سے محبت کرنے والے اسی رائے کے پیچھے ہوچلیں تو یہ صدقہ جاریہ بنے گا یا خدانخواستہ عذاب جاریہ ؟؟؟
*آپ سے چند مؤدبانہ اور عاجزانہ گزارشات ہیں* ۔۔۔۔۔۔
1) بلاشبہ آپ مضبوط عالم ہیں لیکن یہ نہ بھولئے کہ ابھی آپ کے دائیں بائیں اکابرعلماء موجود ہیں اور آپ کے علم کے معترف بھی ہیں ، آپ ان کے اس اعتراف کو جمھور کی متفقہ آراء سے انحراف کرکے ٹھیس نہ پہنچائیں۔
2) جمھور کی آراء کو چھوڑ کر تفرد کی راہ اختیار نہ کریں یہ عنداللہ مقبولیت کو کم یا پھر ختم کردیتا ہے آپ کے پاس کتنے ہی دلائل ہوں اور آپ ان کی روشنی میں کچھ سوچ رہے ہوں لیکن پہلے یہ دیکھیں کہ آپ کی رائے سے دیگر بھی اتفاق کررہے ہیں یا نہیں اگر نہیں تو جمھور کا دامن پکڑے رہئے اس کے نتیجہ میں نہ تو آپ دنیا میں ناکام نہیں ہوں گے اور نہ ہی آخرت میں۔
3) ایک عام سی بات کو اس قدر سختی سے نہ کہیں کہ سامعین متنفر ہوں اور ان کے لئے عمل کرنا مشکل ہوجائے آپ کے پاس قرآن وسنت کے دلائل ہیں وہ اپنے اندر خود تاثیر رکھتے ہیں۔
4) (اباجان)حضرت مولانا علی میاں رحمہ اللہ کی سوانح لائق اتباع ہے اور ان کا طرز مصلحانہ و شفیقانہ ہے وہی عرب و عجم میں مقبول طرز و طریقہ ہے اسے اپنایا جائے۔
5) اکابر کی مشاورت سے اور اہل حق کی کسی بھی کمیٹی کی متفقہ رائے سے ہٹ کر کوئی اقدام نہ کریں یہ عمل اعتماد کو ختم کردیتا ہے۔
6) آپ ذرا غور فرمائیں آپ کی *بعض* جوشیلی اور غیرمدبرانہ تقاریر کے نتیجہ میں انفرادی اور اجتماعی نقصان کس قدر ہو چکا ہے اور خود آپ کے لئے خیر کے کتنے راستہ بند ہوتے چلے جارہے ہیں اور وجہ صرف اور صرف نقد و جرح کا سلسلہ ہے جو عام سے خاص تک جا پہنچا ہے۔۔۔۔آپ ایک بہترین مدرس ومحدث اور مفسر ہیں اسی دائرے میں رہتے ہوئے کام کو آگے بڑھانے کی ضرورت ہے اور یہ خود حفاظت دین کا ایک اہم ترین کام ہے ، تحقیق بھرپور پیش کرنی ہے لیکن اس میں بھی ایک تو اپنی تحقیق کو نہ تو سو فیصد قرار دینا ہے اور نہ ہی جمھور کی متفقہ رائےکو نظرانداز کرنا ہے ، عجب قیامت ایک نشانی ہے۔
یہ چندگزارشات ہیں امید کرتا ہوں کہ آپ علانیہ رجوع فرمائیں گے اور تفرد کی راہ کو ترک کرکے جمھور کی ایمانی اور ربانی راہ کو اختیار فرمائیں گے۔
اور آخر میں اپنے *معاصرین* سے گزارش کروں گا جو کچھ معروف تو ہوگئے لیکن شاید ادب سے محروم ہیں۔۔۔۔برائے کرم علمی اسلوب اختیار کریں اور معروف علماء کرام کی کسی بڑی لغزش پر بھی ادب کے دائرے میں رہتے ہوئے رد پیش کریں بے ادبی سے احتراز کریں یہ بھی اسلاف اور دیگر اکابر کا طریقہ ہے۔
کتبہ :
*ابوذکوان عتیق بن رشیدالحسینی*
Comments
Post a Comment